مشال ارشد سی ایم انڈرگراونڈ نیوز
روزی گیبریل جب پاکستان کے لیے سفر پر نکلی تھیں تو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ انہیں بہت سے لوگوں نے منع کیا تھا کہ وہ پاکستان نہ جائیں کیونکہ یہ ان کے لیے خطرناک ہے لیکن انہیں پاکستان میں کہیں بھی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔
کینیڈین روزی گیبریل بھی ایک عورت تھی پورا پاکستان اکیلے گھومی ہے، لوگوں نے فری بائیک ٹھیک کرکے دی۔
جہاں گئی کھانے کے پیسے نہیں لیے گئے، لوگوں نے اپنے گھروں میں فری رہائش تک دی۔چار سو تو کیا پورے ملک میں سے کسی ایک بھی مرد نے نہ بری نظر ڈالی اور نہ ہی ہراساں کیا، نہ ہی اس کے کپڑے پھاڑے اور نہ ہی فٹبال کی طرح اسے ہوا میں اچھالا، پتہ ہے ایسا کیونکر نہیں ہوا۔
‘کیونکہ روزی ناچ گانا نہیں کرتی تھی’
موٹرسائیکل پر سوار ہو کر دنیا کے سفر پر نکلنے والی کینیڈا کی سیاح روزی گیبریل نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ روزی نے گذشتہ سال پاکستان کے مختلف صوبوں کی سیاحت کی تھی۔ وہ پاکستان کی ثقافت اور خوبصورت مقامات سے کافی متاثر دکھائی دیتی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اس کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔
اس نے بے حیا لوگوں کو اپنا فین نہیں تھا بنایا۔
خدارا پاکستانی معاشرے کے مردوں کو اس طرح سے ذلیل و رسوا نہ کریں، بلکہ ان چند ایک بیہودہ ٹک ٹاکروں کو بھی راہ راست دکھائیں کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔
میری پی ٹی آئی ، پیمرا، اور قانون نافذکرنے والےاداروں سے اس پوری قوم کی طرف سے درخواست ہے اس پر سخت سے سخت قانون سازی کی جائے اور والگر قسم کا مواد کسی بھی سوشل نیٹ ورک پر اپ لوڈ ہونے سے روکا جائے اور والدین سے ہاتھ جوڑ کے استدعا ہے کہ لبرل اور ماڈرن ہونے کے چکر میں اپنی دینی روایات کو پس پشت نہ ڈالیں۔
نوٹ:۔
اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو کل میری اور آپکی بیٹی بھی اس کا شکار ہو سکتی ہے۔
تحریر: ڈاکٹرمحمد صدیق بابر اعوان